Tuesday, 3 September 2013

وہ سراپا سامنے ہے ، استعارے مسترد



وہ سراپا سامنے ہے ، استعارے مسترد
چاند ، جگنو ، پھول ، خوشبو اور ستارے مسترد

تذکرہ جن میں نہ ہو اُن کے لب و رُخسار کا
ضبط وہ ساری کتابیں ، وہ شمارے مسترد

کشتیِ جاں کا ہے رشتہ جب کسی طوفان سے
سب جزیرے رائیگاں ، سارے کنارے مسترد

اُس کی خوشبو ہمسفر راہِ مسافت میں ہو گر
خواب ، منظر ، رہگزر ، دریا ، شرارے مسترد

جب کوئی بوئے وفا اُن میں نہیں باقی رہی
ساری سوغاتیں تمھاری ، خط تمھارے مسترد

خاک و خوں کا دیکھنا ہی جب مقدر ہے ظفر
زندگی کے رنگ سارے ، سب نظارے مسترد

Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets