Sunday, 31 March 2013

وہ میرا محسن مجھے پتھر سے ہیرا کر گیا


اس کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا
وہ میرا محسن مجھے پتھر سے ہیرا کر گیا

گھورتا تھا میں خلا میں تو سجی تھی محفلیں
میرا آنکھوں کا جھپکنا مجھ کو تنہا کر گیا

ہر طرف اڑنے لگا تاریک سایوں کا غبار
شام کا جھونگا، چمکتا شہر میلا کر گیا

چاٹ لی کرنوں نے میرے جسم کی ساری مٹھاس
میں سمندر تھا، وہ سورج مجھ کو صحرا کر گیا

ایک لمحے میں بھرے بازار سونے ہو گئے
ایک چہرہ سب پرانے زخم تازہ کر گیا

میں اسی کے رابطے میں جس طرح ملبوس تھا
یوں وہ دامن کھینچ کر مجھ کو برہنہ کر گیا

رات بھر ہم روشنی کی آس میں جاگے عدیم
اور دن آیا تو آنکھوں میں اندھیرا کر گیا


یہ جسم تو فانی ہے روحوں کا ملن ہو گا


بارش میں‌جو نکلی میں ماتم کی صدا آئ
نوحہ میرا کہنے کو پر شور ہوا آئ

میں بیچ کے پہنچی ہوں اس دل کی سبھی قدریں
پر لوگ یہ کہتے ہیں بگڑی کو بنا آئی

نقصان تمہارا ہے تم نے نہ سنا کچھ بھی
دلچسب سا قصا تھا غیروں کو سنا آئ

یہ جسم تو فانی ہے روحوں کا ملن ہو گا
یہ جس میں لکھا تم نے وہ خط بھی جلا آئ

میں ہار چکی بازی اس آنکھ مچولی کی
ہر سمت تمہیں ڈھونڈا ہر سمت بلا آئ

دل آج بہت خوش ہے اتنا تو کیا شبنم
خوش 
ذوق سے لوگوں کو کچھ شعر سنا آئ


مجھ کو چھو اور مکمل کردے


منجمد خون میں‌ ہلچل کردے
مجھ کو چھو اور مکمل کردے

کتنی پیاسی ہیں یہ بنجر آنکھیں
ابرزادے ! انہیں جل تھل کردے

میں نے وہ درد چھپا رکھا ہے
جو ترے حسن کو پاگل کردے

سارے انسان ہی وحشی ہیں تو پھر
اس بھرے شہر کو جنگل کردے

اے جھلستے ہوئے جسموں کے خدا
جلتی دوپہر پہ بادل کردے

خوشبو آئی ہے تو لوٹے نہ کبھی 
اب ہوا کو بھی کوئی شل کردے

یا مجھے وصل عطا کر مالک
یا مرا ہجر مکمل کردے


کیمیا گر


کیمیا گر! پرکھ تو سہی
اور پرکھ کر ہمیں بتا
کون سی دھات کے خواب ہیں
جو پگھلتے نہیں اور بکھرتے نہیں خاک پر
کیمیا گر!
ہمارے دکھوں کا مداوا نہ کر
پر ہماری کسی بات پر یوں نہ ہنس
کہ ہماری جگہ ترے آنسو نکل آئیں۔۔۔۔۔۔ہم ہنس پڑیں
کیمیا گر!اگرچہ ہماری مسافت کی گھڑیاں زیادہ نہیں
اور ہمارا بدن بھی تھکن سے نہیں ٹوٹتا
اور آنکھیں بھی زندہ ہیں دل کی طرح
پر ہمیں اس مسافت میں رہنے کے سارے پیچ و خم
کھا گئے۔
دوستوں نے جو ڈالے تھے یہ سوچ کر
کہ ہمیں اپنی منزل سے پہلے تھکن لوٹ لے۔۔۔

کیمیا گر!
ہمارا ھنر دیکھ، ہم نے کٹھن راستوں کے سیہ پتھروں کو
لہو کی اَنی اور نظر کی ہتھوڑی سے کیسے تراشا
کہ اب لوگ ان کو بھی خوابوں کی تعبیر کہنے لگے

کیمیا گر!
زرِ خواب سے آنکھ خالی ہوئی
پاس کچھ بھی نہیں
کچھ پرکھ تو سہی!
کچھ بتا تو سہی!
کون سی دھات کے خوب ہیں
جو پگھلتے نہیں اور بکھرتے نہیں خاک پر۔۔۔


میرے دل پر تیری یاد کا سایا تھا


پھر بھی خوش تھا ،گرچہ میں بے مایا تھا 
میرے دل پر تیری یاد کا سایا تھا 

بانجھ رتوں میں پھول کھلانے والے دوست
میں نے کل تجھے کتنا سمجھایا تھا 

دل کی دھڑکن روتے میں بھی ہنستی تھی 
موسم نے وہ ایک سخن فرمایا تھا 

خون کی بہتی ندیا میں بھی خوابوں کا 
ہر شب ہم نے اک بجرا 
ٹھہرایا تھا 


اب میں اسکے دھیان میں غلطاں پھرتا ہوں 
کل میں جسکو خاطر میں نہ لایا تھا


دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی


دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی
جیسے احساں اتارتا ہے کوئی

آئینہ دیکھ کر تسّلی ہوئی
ہم کو اس کے گھر میں جانتا ہے کوئی

پَک گیا ہے شجر پہ پھل شاید
پھر سے پتھر اچھالتا ہے کوئی

پھر نظر میں لہو کے چھینٹے ہیں
تم کو شاید مغالطہ ہے کوئی

دیر سے گونجتے ہیں سناٹے
جیسے ہم کو پکارتا ہے کوئی


ماتمی رنگ کا ملبوس پہن کر دل نے.


[IMG]

Maatmi Rang Ka malbuus Pehan K Dil Ney


Doob Kar Jis Ney Muhabbat Men Adakari Ki,

Dil-e-Saada Ney Bohat Us Ki Tarafdari Ki,



Jaib Men Ley K Umeedon K Khanaktey Sikkey,

Hum Ney Khawabon K Jazeeron Men Khareedari Ki,



Maatmi Rang Ka malbuus Pehan K Dil Ney,

Raat Ujrey Huey Khawabon Ki Azadari Ki,



Theek Hai Dil Ko Lagaya Tha Kabhi Bhooley Sey,

Is Ki Qeemat Bhi Adaa Hum Ney Bohat Bhaari Ki,



Dil K Sehra Men Ugaaye Hain Muhabbat K Gulaab,

Mausam-e-Ishq Men Hum Ney Bhi Shajar Kaari Ki..

Hum bhi to shafa paayen kabhi lams say us kay



hum bhi to shafa paayen kabhi lams say us kay
us haath men suntay hain maseehaai bohat hai

ہم بھی تو شفا پائیں کبھی لَمس سے اُس کے
اُس ہاتھ میں ‌سُنتے ہیں مسیحائی بہت ہے

کبھی یوں بھی تو ہو


کبھی یوں بھی تو ہو
دریا کا ساحل ہو
پورے چاند کی رات ہو
اور تم آؤ

کبھی یوں بھی تو ہو
پریوں کی محفل ہو
کوئی تمہاری بات ہو
اور تم آؤ

کبھی یوں بھی تو ہو
یہ نرم ملائم ٹھنڈی ہوائیں
جب گھر سے تمہارے گزریں
تمہاری خوشبو چرائیں
میرے گھر لے آئیں

کبھی یوں بھی تو ہو
سونی ہر منزل ہو
کوئی نہ میرے ساتھ ہو
اور تم آؤ

کبھی یوں بھی تو ہو
یہ بادل ایسا ٹوٹ کے برسے
میرے دل کی طرح ملنے کو تمہارا دل بھی ترسے
تم نکلو گھر سے

کبھی یوں بھی تو ہو
تنہائی ہو ،دل ہو
بوندیں ہوں برسات ہو
اور تم آؤ
کبھی تو یوں بھی ہو


جب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں


مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں
جب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں

ایک یہ دن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناطہ توڑ لیا
ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں

ایک یہ دن جب ساری سڑکیں روٹھی روٹھی لگتی ہیں
ایک وہ دن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں

ایک یہ دن جب جاگی راتیں دیواروں کو تکتی ہیں
ایک وہ دن جب شاموں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں

ایک یہ دن جب ذہن میں ساری عیاری کی باتیں ہیں
ایک وہ دن جب دل میں بھولی بھالی باتیں رہتی تھیں

ایک یہ دن جب لاکھوں غم اور کال پڑا ہے آنسو کا
ایک وہ دن جب ایک ذرا سی بات پہ ندیاں بہتی تھیں

ایک یہ گھر جس گھر میں میرا ساز و ساماں رہتا ہے
ایک وہ گھر جس گھر میں میری بوڑھی نانی رہتی تھیں


لیکن اس ہرجائی کو بھلائے کون


درد اپناتا ہے پرائے کون
کون سنتا ہے اورسنائےکون


کون دہرائے وہ پرانی باتیں
غم ابھی سویا ہے جگائے کون

وہ جو اپنےہیں کیاوہ اپنےہیں
کون دکھ جھیلے، آزمائے کون

اب سکوں ہے تو بھلانے میں ہے
لیکن اس ہرجائی کو بھلائے کون

آج پھر دل ہے کچھ اداس اداس
دیکھئے آج یاد آئے کون 


چرا کے خواب وہ آنکھوں کو رہن رکھتا ہے


بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا
وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا

اسی کی شکل مجھے چاند میں نظر آئے
وہ ماہ رخ جو لبِ بام بھی نہیں آتا

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

بٹھا دیا مجھے دریا کے اس کنارے پر
جدھر حبابِ تہی جام بھی نہیں آتا

چرا کے خواب وہ آنکھوں کو رہن رکھتا ہے
اور اس کے سر کوئی الزام بھی نہیں آتا


وہ مرحلہ بھی عشق میں کس حوصلے کا تھا


سودا ہمارے سر میں تجھے چاہنے کا تھا
عہدِ شروعِ عشق بھی کس معرکے کا تھا

محرومِ پیش رفت رہے ہم سے خوش خرام
دشتِ زیاں میں اپنا سفر دائرے میں تھا

پیمائشِ سفر نے کئے حوصلے تمام
ہر سنگِ میل، سنگ مرے راستے کا تھا

میں خود پہ ہنس رہا تھا زمانے کے ساتھ ساتھ 
وہ مرحلہ بھی عشق میں کس حوصلے کا تھا  

سن کر ہماری بات یہ کیا حال کر لیا ؟؟؟ 
تم رو پڑے ؟ یہ وقت دعا مانگنے کا تھا 

نکلی تھی مدتوں میں‌ملاقات کی سبیل
تشنہ کہو یہ کون سا موقع گِلے کا تھا


ادھر آ غم جاناں تجھے ہم معتبر کردیں


تجھے دل میں بسالیں شامل شام و سحر کردیں
ادھر آ غم جاناں تجھے ہم معتبر کردیں


ہم آئے ہیں ہمارے ساتھ صبح‌نو بھی آئی ہے
شب تاریک کے ماروں کوجاکر یہ خبر کردیں


ہماری داستان عشق بھی دہرائے گی دنیا
اگر وہ ساتھ دیں تو ہم عاشقی کو معتبر کردیں


کنول دشواریء منزل ہمیں محسوس کیا ہوگی
جو پیدا راہ دل میں جذبہء شوق سفر کردیں

سحر جو شب سے عظیم تر ہے


اَلَم نصیبوں، جگر فگاروں 
کی صبح افلاک پر نہیں‌ ہے
جہاں‌پہ ہم تم کھڑے ہیں‌دونوں
سحر کا روشن افق یہیں‌ہے

یہیں‌پہ غم کے شرار کھِل کر
شفق کا گلزار بن گئے ہیں
یہیں‌پہ قاتل دکھوں کے تیشے
قطار اندر قطار کرنوں 
کے آتشیں ہار بن گئے ہیں

یہ غم جو اس رات نے دیا ہے
یہ غم سحر کا یقیں بنا ہے
یقیں‌جو غم سے کریم تر ہے
سحر جو شب سے عظیم تر ہے


کھڑی ہے دیر سے دہلیز پر وہی آہٹ


سبھی کے پاؤں میں بے سمت بیقراری ہے
تمھارے شہر میں کوئی تو ناگواری ہے

کھڑی ہے دیر سے دہلیز پر وہی آہٹ
وہ جس نے ترکِ تعلق میں شب گزاری ہے

ہمارے بعد بھی آئیں گے لوگ ہم جیسے
ازل سے حرفِ محبت کی بات جاری ہے

اگرچہ رونے اور ہنسنے میں فرق ہے، لیکن
تمھیں تو علم ہے ،دونوں کی ضرب کاری ہے

وگرنہ کون تھا ایسا،
کہ مجال یہ تھی
ہمی نے شوق سے بازی پھر آج ہاری ہے

ہم اپنی آنکھ میں ندیاں پرو کے لائے ہیں
ہمارے پاس یہی ایک وضعداری ہے

کوئی تو مسلہ ہے نا،کوئی تو مسلہ ایسا
کہ چار سوئے عناصر پہ کرب طاری ہے

عجیب لطف و کرم ہے غریب لوگوں پر
تمھارے ہاتھ کی حدت میں غمگساری ہے

کسی نحیف سے پل میں کبھی نہ کام آئے
یہ کیسا عجز ہے،کیسی یہ انکساری ہے

تمھارے حوصلے بے ثمر ٹھرے
ہمارے دل کی فضا اب بھی سوگواری ہے


میں آئینہ ہوں‌مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے


چلو عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے
پھر کیا کریں ہمیں‌ ڈوبنے کی عادت ہے

تو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائع
میں آئینہ ہوں‌مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے

میں کیا کہوں کہ مجھے صبر کیوں نہیں آتا
میں کیا کروں کہ تجھے دیکھنے کی عادت ہے

تیرے نصیب میں اے دل ! سدا کی محرومی
نہ وہ سخی، نہ تجھے مانگنے کی عادت ہے

وصال میں‌ بھی وہی ہے فراق کا عالم
کہ اسکو نیند مجھے رت جگے کی عادت ہے

یہ مشکلیں تو پھر کیسے راستے طے ہوں
میں ناصبور اسے سوچنے کی عادت ہے

یہ خود اذیتی کب تک فراز تو بھی اسے
نہ یاد کر کہ جسے بھولنے کی عادت ہے


شام ٹھہر جائے گی


شام کے اُجالوں میں
اپنے نرم ہاتھوں سے
کوئی بات اچھی سی
کوئی خواب سچا سا
کوئی بولتی خوشبو
کوئی سوچتا لمحہ
جب بھی لکھنا چاہو گے
سوچ کے دریچے سے
میرا نام چُھپ چُھپ کر
تم کو یاد آئے گا
ہاتھ کانپ جائے گا
شام ٹھہر جائے گی۔۔۔۔۔
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets