اے دلِ ناداں آرزو کیا ہے جستجو کیا ہے
اے دلِ ناداں آرزو کیا ہے جستجو کیا ہے
ہم بھٹکتے ہیں، کیوں بھٹکتے ہیں دشت و صحرا میں
ایسا لگتا ہے موج پیاسی ہے اپنے دریا میں
کیسی الجھن ہے، کیوں الجھن ہے
ایک سایہ سا روبرو کیا ہے
کیا قیامت ہے، کیا مصیبت ہے
کہہ نہیں سکتے کس کا ارماں ہے
زندگی جیسے کھوئی کھوئی ہے حیراں حیراں ہے
یہ زمیں چپ ہے، آسماں چپ ہے
پھر یہ دھڑکن سی چار سو کیا ہے
No comments:
Post a Comment